سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حالات و واقعات
Feb 12, 2017 مولانا محبوب عالم اشرفی القادری

 

نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ‘‘من عادی للہ ولیا فقد بارزاللہ بالمحارب۔ یعنی جو اللہ عزوجل کے کسی دوست سے دشمنی رکھے تحقیق اس نے اللہ عزوجل سے اعلان جنگ کر دیا۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب من ترجی لہ السلامہ من الفتن، رقم 3989، ج4، ص350)
حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ‘‘کوئی بندہ میرے فرائض کی ادائیگی سے بڑھ کر کسی اور چیز سے میرا تقرب حاصل نہیں کر سکتا (فرائض کے بعد پھر وہ) نوافل سے مذید میرا قرب حاصل کرتا جاتا ہے یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں، جب وہ میرے مقام محبت تک پہنچ جاتا ہے تو میں اس کے کان، آنکھ، زبان، دل، ہاتھ اور پاؤں بن جاتا ہوں، وہ میرے ذریعے سے سنتا، دیکھتا، بولتا اور چلتا ہے۔‘‘
امام فخرالدین رازی ’’تفسیر کبیر‘‘ میں ایک روایت نقل فرماتے ہیں: ‘‘اولیاء اللہ لا یموتون ولکن ینقلون من دارالی دار‘‘ یعنی بے شک اللہ عزوجل کے اولیاء مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہو جاتے ہیں۔‘‘ (التفسیر الکبیر، پ4، آل عمران: 169، ج3، ص427)
نام نسب: غوث پاک کا اسم مبارک ‘‘عبدالقادر‘‘ کنیت ‘‘ابو محمد‘‘ اور القابات ‘‘محی الدین، محبوب سبحانی، غوث الثقلین، غوث الاعظم‘‘ وغیرہ ہیں، آپ 470ھ میں بغداد شریف کے قریب قصبہ جیلان میں پیدا ہوئے ۔

غوث کسے کہتے ہیں ؟‘‘غوثیت‘‘ بزرگی کا ایک خاص درجہ ہے، لفظ ‘‘غوث‘‘ کے لغوی معنی ہیں ‘‘فریادرس یعنی فریاد کو پہنچنے والا‘‘ چونکہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تعالٰی علیہ غریبوں، بے کسوں اور حاجت مندوں کے مددگار ہیں اسی لئے آپ کو ‘‘غوث اعظم‘‘ کے خطاب سے سرفراز کیا گیا، اور بعض عقیدت مند آپ کو ‘‘پیران پیر دستگیر‘‘ کے لقب سے بھی یاد کرتے ہیں۔
نسب شریف:حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ ، والد ماجد کی نسبت سے حسنی ہیں سلسلہء نسب یوں ہے، سید محی الدین ابو محمد عبدالقادر بن سید ابو صالح موسٰی جنگی دوست بن سید ابوعبداللہ بن سید یحیٰی بن سید محمد بن سیدداؤد بن سید موسٰی ثانی بن سید عبداللہ بن سید موسٰی جون بن سید عبداللہ محض بن سید امام حسن مثنٰی بن سید امام حسن بن سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین اور آپ رحمہ اللہ تعالٰی علیہ اپنی والدہ ماجدہ کی نسبت سے حسینی سید ہیں۔ (بہجۃ الاسرار، معدن الانوار، ذکر نسبہ، ص171)
آباء و اجداد:آپ کا خاندان صالحین کا گھرانا تھا آپ کے ناناجان، داداجان، والد ماجد، والدہ محترمہ، پھوپھی جان، بھائی اور صاحبزادگان سب متقی و پرہیزگار تھے، اسی وجہ سے لوگ آپ کے خاندان کو اشراف کا خاندان کہتے تھے۔
والد محترم:آپ کے والد محترم حضرت ابو صالح سید موسٰی جنگی دوست رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تھے، آپ کا اسم گرامی ‘‘سید موسٰی‘‘ کنیت ‘‘ابو صالح‘‘ اور لقب ‘‘جنگی دوست‘‘ تھا، آپ جیلان شریف کے اکابر مشائخ کرام رحمہم اللہ میں سے تھے۔
‘‘جنگی دوست‘‘ لقب کی وجہ:آپ کا لقب جنگی دوست اس لئے ہوا کہ آپ خالصتاً اللہ عزوجل کی رضا کے لئے نفس کشی اور ریاضت شرعی میں یکتائے زمانہ تھے، نیکی کے کاموں کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے کے لئے مشہور تھے، اس معاملہ میں اپنی جان تک کی بھی پروا نہ کرتے تھے، چنانچہ ایک دن آپ جامع مسجد کو جا رہے تھے کہ خلیفہ وقت کے چند ملازم شراب کے مٹکے نہایت ہی احتیاط سے سروں پر اٹھائے جا رہے تھے، آپ نے جب ان کی طرف دیکھا تو جلال میں آگئے اور ان مٹکوں کو توڑ دیا۔ آپ کے رعب اور بزرگی کے سامنے کسی ملازم کو دم مارنے کی جراء ت نہ ہوئی تو انہوں نے خلیفہء وقت کے سامنے واقعہ کا اظہار کیا اور آپ کے خلاف خلیفہ کو ابھارا، تو خلیفہ نے کہا: ‘‘سید موسٰی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) کو فوراً میرے دربار میں پیش کرو۔‘‘ چنانچہ حضرت سید موسٰی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ دربار میں تشریف لے آئے خلیفہ اس وقت غیظ و غضب سے کرسی پر بیٹھا تھا، خلیفہ نے للکار کر کہا: ‘‘آپ کون تھے جنہوں نے میری ملازمین کی محنت کو رائیگاں کر دیا ؟‘‘ حضرت سید موسٰی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: ‘‘میں محتسب ہوں اور میں نے اپنا فرض منصبی ادا کیا ہے۔‘‘ خلیفہ نے کہا: ‘‘آپ کس کے حکم سے محتسب مقرر کئے گئے ہیں ؟‘‘ حضرت سید موسٰی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے رعب دار لہجہ میں جواب دیا: ‘‘جس کے حکم سے تم حکومت کر رہے ہو۔‘‘
آپ کے اس ارشاد پر خلیفہ پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ سربزانو ہو گیا (یعنی گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھ گیا) اور تھوڑی دیر کے بعد سر کو اٹھا کر عرض کیا: ‘‘حضور والا ! امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے علاوہ مٹکوں کو توڑنے میں کیا حکمت ہے ؟‘‘ حضرت سید موسٰی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا: ‘‘تمہارے حال پر شفقت کرتے ہوئے نیز تجھ کو دنیا اور آخرت کی رسوائی اور ذلت سے بچانے کی خاطر۔‘‘ خلیفہ پر آپ کی اس حکمت بھری گفتگو کا بہت اثر ہوا اور متاثر ہوکر آپ کی خدمت اقدس میں عرض گزار ہوا: ‘‘عالیجاہ ! آپ میری طرف سے بھی محتسب کے عہدہ پر مامور ہیں۔‘‘
حضرت سید موسٰی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنے متوکلانہ انداز میں فرمایا: ‘‘جب میں حق تعالٰی کی طرف سے مامور ہوں تو پھر مجھے خلق کی طرف سے مامور ہونے کی کیا حاجت ہے۔‘‘ اسی دن سے آپ ‘‘جنگی دوست‘‘ کے لقب سے مشہور ہو گئے۔ (سیرت غوث الثقلین، ص52)
ناناجان:حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے ناناجان حضرت عبداللہ صومعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ جیلان شریف کے مشائخ میں سے تھے، آپ نہایت زاہد اور پرہیزگار ہونے کے علاوہ صاحب فضل و کمال بھی تھے، بڑے بڑے مشائخ کرام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین سے آپ نے شرف ملاقات حاصل کیا۔
مستحاب الدعوات :شیخ ابومحمد الداربانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: ‘‘سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مستحاب الدعوات تھے (یعنی آپ کی دعائیں قبول ہوتی تھیں۔) اگر آپ کسی شخص سے ناراض ہوتے تو اللہ عزوجل اس شخص سے بدلہ لیتا اور جس سے آپ خوش ہوتے تو اللہ عزوجل اس کو انعام و اکرام سے نوازتا، ضعیف الجسم اور نحیف البدن ہونے کے باوجود آپ نوافل کی کثرت کیا کرتے اور ذکر و اذکار میں مصروف رہتے تھے۔ آپ اکثر امور کے واقع ہونے سے پہلے ان کی خبر دے دیا کرتے تھے اور جس طرح آپ ان کے رونما ہونے کی اطلاع دیتے تھے اسی طرح ہی واقعات روپذیر ہوتے تھے۔(بہجۃ الاسررا، ذکر نسبہ۔ وصفتہ، رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ، ص 172)
حضور سیدی غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی بیویاں بھی آپ کے روحانی کمالات سے فیض یاب تھیں آپ کے صاحبزادے حضرت شیخ عبدالجبار رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنی والدہ ماجدہ کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ ‘‘جب بھی والدہ محترمہ کسی اندھیرے مکان میں تشریف لے جاتی تھیں تو وہاں چراغ کی طرح روشنی ہو جاتی تھیں۔ ایک موقع پر میرے والد محترم غوث پاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بھی وہاں تشریف لے آئے، جیسے ہی آپ کی نظر اس روشنی پر پڑی تو وہ روشنی فوراً غائب ہوگئی، تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ‘‘یہ شیطان تھا جو تیری خدمت کرتا تھا اسی لئے میں نے اسے ختم کر دیا، اب میں اس روشنی کو رحمانی نور میں تبدیل کئے دیتا ہوں۔‘‘ اس کے بعد والدہ محترمہ جب بھی کسی تاریک مکان میں جاتی تھیں تو وہاں ایسا نور ہوتا جو چاند کی روشنی کی طرح معلوم ہوتا تھا۔‘‘ (بہجۃ الاسرار و معدن الانوار، ذکر فضل اصحابہ۔۔۔ الخ، ص196)
سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بشارت:
محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے والد ماجد حضرت ابو صالح سید موسٰی جنگی دوست رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت کی رات مشاہدہ فرمایا کہ سرور کائنات، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بمع صحابہ کرام آئمہ الہدٰی اور اولیاء عظام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ان کے گھر جلوہ افروز ہیں اور ان الفاظ مبارکہ سے ان کو خطاب فرما کر بشارت سے نوازا: ‘‘ یا اباصالح اعطاک اللہ ابنا وھو ولی و محبوبی و محبوب اللہ تعالٰی وسیکون لہ شان فی الاولیاء والاقطاب کشانی بین الانبیاء والرسل یعنی اے ابو صالح ! اللہ عزوجل نے تم کو ایسا فرزند عطا فرمایا ہے جو ولی ہے اور وہ میرا اور اللہ عزوجل کا محبوب ہے اور اس کی اولیاء اور اقطاب میں ویسی شان ہو گی جیسی انبیاء اور مرسلین علیہم السلام میں میری شان ہے۔‘‘ (سیرت غوث الثقلین، ص55 بحوالہ تفریح الخاطر)
انبیاء کرام علیھم السلام کی بشارتیں:حضرت ابو صالح موسٰی جنگی دو ست کو خواب میں نبی کریم ﷺکے علاوہ جملہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام نے یہ بشارت دی کہ ‘‘تمام اولیاء اللہ تمہارے فرزند ارجمند کے مطیع ہوں گے اور ان کی گردنوں پر ان کا قدم مبارک ہو گا۔‘‘ (سیرت غوث الثقلین، ص55 بحوالہ تفریح الخاطر)
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی بشارت:جن مشائخ نے حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی قطبیت کے مرتبہ کی گواہی دی ہے ‘‘روضۃ النواظر‘‘ اور ‘‘نزہۃ الخواطر‘‘ میں صاحب کتاب ان مشائخ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ‘‘آپ سے پہلے اللہ عزوجل کے اولیاء میں سے کوئی بھی آپ کا منکر نہ تھا بلکہ انہوں نے آپ کی آمد کی بشارت دی، چنانچہ حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنے زمانہ مبارک سے لے کر حضرت شیخ محی الدین سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے زمانہء مبارک تک تفصیل سے خبردی کہ جتنے بھی اللہ عزوجل کے اولیاء گزرے ہیں سب نے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خبر دی ہے۔ ( سیرت غوث الثقلین، ص58 )
وقت ولادت کرامت کا ظہور:آپ کی ولادت ماہ رمضان المبارک میں ہوئی اور پہلے دن ہی سے روزہ رکھا۔ سحری سے لے کر افطاری تک آپ اپنی والدہ محترمہ کا دودھ پیتے تھے، چنانچہ سیدنا غوث الثقلین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ ‘‘جب میرا فرزند ارجمند عبدالقادر پیدا ہوا تو رمضان شریف میں دن بھر دودھ نہ پیتا تھا۔‘‘ (بہجۃ الاسرار، ص172)
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت سیدتنا ام الخیر فاطمہ بنت عبداللہ صومعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما فرمایا کرتی تھیں ’’جب عبدالقادر پیدا ہوئے تو وہ رمضان میں دن کے وقت میرا دودھ نہیں پیا کرتے تھے۔ اگلے سال رمضان کا چاند ابر کی وجہ سے نظر نہ آیا تو لوگ میرے پاس دریافت کرنے کے لئے آئے تو میں نے کہا کہ ‘‘میرے بچے نے دودھ نہیں پیا۔‘‘ پھر معلوم ہوا کہ آج رمضان کا دن ہے اور ہمارے شہر میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ سیدوں میں ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو رمضان المبارک میں دن کے وقت دودھ نہیں پیتا۔‘‘ (بہجۃ الاسرار، ص172)
آ پکی زیارت کی برکتیں: شیخ ابو عبداللہ محمد بن علی سنجاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے والد فرماتے ہیں کہ ‘‘حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی، غوث صمدانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ دنیا کے سرداروں میں سے منفرد ہیں، اولیاء اللہ میں سے ایک فرد ہیں، اللہ عزوجل کی طرف سے مخلوق کے لئے ہدیہ ہیں، وہ شخص نہایت نیک بخت ہے جس نے آپ کو دیکھا، وہ شخص ہمیشہ شادر ہے جس نے آپ کی صحبت اختیار کی، وہ شخص ہمیشہ خوش رہے جس نے حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دل میں رات بسر کی۔‘‘ (بہجۃ الاسرار، ص432)
غوث الاعظم مادر زاد ولی : آپ ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں تھے اور ماں کو جب چھینک آتی اور اس پر وہ الحمدللہ کہتیں تو آپ پیٹ ہی میں جواباً یرحمک اللہ کہتے(2) آپ یکم رمضان المبارک بروز پیر صبح صادق کے وقت دنیا میں جلوہ گر ہوئے اس وقت ہونٹ آہستہ آہستہ حرکت کر رہے تھے اور اللہ، اللہ کی آواز آرہی تھی۔
جس دن آپ کی ولادت ہوئی اس دن آپ کے دیار ولادت جیلان شریف میں گیارہ سو بچے پیدا ہوئے وہ سب کے سب لڑکے تھے اور سب ولی اللہ بنے۔(4) غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے پیدا ہوتے ہی روزہ رکھ لیا اور جب سورج غروب ہوا اس وقت ماں کا دودھ نوش فرمایا۔ سارا مہینہ آپ کا یہی معمول رہا۔ پانچ برس کی عمر میں جب پہلی بار بسم اللہ پڑھنے کی رسم کیلئے کسی بزرگ کے پاس بیٹھے تو اعوذ اور بسم اللہ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور آلم سے لے کر اٹھارہ پارے روشن پڑھ کر سنا دئیے۔ اس بزرگ نے کہا، بیٹے اور پڑھئے! فرمایا، بس مجھے اتنا ہی یاد ہے کیونکہ میری ماں کو بھی اتنا ہی یاد تھا۔ جب میں اپنی ماں کے پیٹ میں تھا اس وقت وہ پڑھا کرتی تھیں۔ میں نے سن کر یاد کر لیا تھا۔ جب آپ لڑکپن میں کھیلنے کا ارادہ فرماتے، غیب سے آواز آتی، اے عبدالقادر ! ہم نے تجھے کھیلنے کے واسطے نہیں پیدا کیا۔ آپ مدرسہ میں تشریف لے جاتے تو آواز آتی، ‘‘اللہ عزوجل کے ولی کو جگہ دے دو۔‘‘ (کتب کثیرہ)
بے شک موت و حیات اللہ عزوجل کے اختیار میں ہے لیکن اللہ عزوجل اپنے کسی بندے کو مردے جلانے کی طاقت بخشے تو اس کے لئے کوئی مشکل بات نہیں ہے اور اللہ عزوجل کی عطا سے کسی اور کو ہم مردہ زندہ کرنے والا تسلیم کریں تو اس سے ہمارے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اگر شیطان کی باتوں میں آکر کسی نے اپنے ذہن میں یہ بٹھا لیا ہے کہ اللہ عزوجل نے کسی اور کو مردہ زندہ کرنے کی طاقت ہی نہیں دی تو اس کا یہ نظریہ یقیناً حکم قرآنی کے خلاف ہے۔ دیکھئے! قرآن پاک حضرت سیدنا عیسٰی روح اللہ علٰی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے مریضوں کو شفاء دینے اور مردے زندہ کرنے کی طاقت کا صاف صاف اعلان کر رہا ہے جیسا کہ (پارہ 30، سورہء ال عمران کی آیت نمبر49) میں حضرت سدینا عیسٰی روح اللہ علٰی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے
وابری الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ ج (پ3، ال عمران: 49)
ترجمہ:کنزالایمان: اور میں شفاء دیتا ہوں مادر زادھوں اور سفید داغ والے (یعنی کوڑھی) کو اور میں مردے چلاتا ہوں اللہ (عزوجل) کے حکم سے امید ہے کہ شیطان کا ڈالا ہوا وسوسہ جڑ سے کٹ گیا ہوگا، کیونکہ مسلمان کا قرآن پاک پر ایمان ہوتا ہے اور وہ حکم قرآن کے خلاف کوئی دلیل تسلیم کرتا ہی نہیں۔ بہرحال اللہ عزوجل اپنے مقبول بندوں کو طرح طرح کے اختیارات سے نوازتا ہے اور ان سے ایسی باتیں صادر ہوتی ہیں جو عقلی انسانی کی بلندیوں سے وراء الورا ہوتی ہیں۔ یقیناً اہل اللہ کے تصرفات و اختیارات کی بلندی کو دنیا والوں کی پرواز عقل چھو بھی نہیں سکتی۔
دریاؤں پر آپ کی حکومت:ایک دفعہ دریائے دجلہ میں زوردار سیلاب آگیا، دریا کی طغیانی کی شدت کی وجہ سے لوگ ہراساں اور پریشاں ہوگئے اور حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے مدد طلب کرنے لگے حضرت نے اپنا عصاء مبارک پکڑا اور دریا کی طرف چل پڑے اور دریا کے کنارے پر پہنچ کر آپ نے عصاء مبارک کو دریا کی اصلی حد پر نصب کردیا اور دریا کو فرمایا کہ ‘‘بس یہیں تک۔‘‘ آپ کا فرمانا ہی تھا کہ اسی وقت پانی کم ہونا شروع ہو گیا اور آپ کے عصاء مبارک تک آگیا۔‘‘ (بہجۃ الاسرار، ص 153) 
آپ کی دعاء کی تاثیر:ابو السعود الحریمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے مروی ہے کہ ابو المظفر حسن بن نجم تاجر نے شیخ حماد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: ‘‘حضور والا ! میرا ملک شام کی طرف سفر کرنے کا ارادہ ہے اور میرا قافلہ بھی تیار ہے، سات سو دینار کا مال تجارت ہمراہ لے جاؤں گا۔‘‘ تو شیخ حماد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: ‘‘اگر تم اس سال سفر کرو گے تو تم سفر میں ہی قتل کر دئیے جاؤ گے اور تمہارا مال و اسباب لوٹ لیا جائے گا۔‘‘ آپ کا ارشاد سن کر مغموم حالت میں باہر نکلا تو حضرت سیدنا غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے ملاقات ہوگئی اس نے شیخ حماد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا ارشاد سنایا تو آپ نے فرمایا اگر تم سفر کرنا چاہتے ہو تو جاؤ تم اپنے سفر سے صحیح و تندرست واپس آؤ گے، میں اس کا ضامن ہوں۔‘‘ آپ کی بشارت سن کر وہ تاجر سفر پر چلا گیا اور ملک شام میں جاکر ایک ہزار دینار کا اس نے اپنا مال فروخت کیا اس کے بعد وہ تاجر اپنے کسی کام کے لئے حلب چلا گیا، وہاں ایک مقام پر اس نے اپنے ہزار دینار رکھ دئیے اور رکھ کر بھول گیا اور حلب میں اپنی قیام گاہ پر آگیا، نیند کا غلبہ تھا کہ آتے ہی سو گیا، خواب میں کیا دیکھتا ہے کہ عرب بدوؤں نے اس کا قافلہ لوٹ لیا ہے اور قافلے کے کافی آدمیوں کو قتل بھی کر دیا ہے اور خود اس پر بھی حملہ کرکے اس کر مار ڈالا ہے، گھبرا کر بیدار ہوا تو اسے اپنے دینار یاد آگئے فوراً دوڑتا ہوا اس جگہ پر پہنچا تو دینار وہاں ویسے ہی پڑے ہوئے مل گئے، دینار لے کر اپنی قیام گاہ پر پہنچا اور واپسی کی تیاری کرکے بغداد لوٹ آیا۔ جب بغداد شریف پہنچا تو اس نے سوچا کہ پہلے حضرت شیخ حماد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوں کہ وہ عمر میں بڑے ہیں یا حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوں کہ آپ نے میرے سفر کے متعلق جو فرمایا تھا بالکل درست ہوا ہے اسی سوچ و بچار میں تھا کہ حسن اتفاق سے شاہی بازار میں حضرت شیخ حماد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے اس کی ملاقات ہوگئی تو آپ نے اس کو ارشاد فرمایا کہ ‘‘پہلے حضور غوث پاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت اقدس میں حاضری دو کیونکہ وہ محبوب سبحانی ہیں انہوں نے تمہارے حق میں ستر (70) مرتبہ دعا مانگی ہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے تمہارے واقعہ کو بیداری سے خواب میں تبدیل فرمادیا اور مال کے ضائع ہونے کو بھول جانے سے بدل دیا۔ جب تاجر غوث الثقلین رحم? اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ‘‘جو کچھ شیخ حماد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے شاہی بازار میں تجھ سے بیان فرمایا ہے بالکل ٹھیک ہے کہ میں نے ستر (70) مرتبہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں تمہارے لئے دعا کی کہ وہ تمہارے قتل کے واقعہ کو بیداری سے خواب میں تبدیل فرمادے اور تمہارے مال کے ضائع ہونے کو صرف تھوڑی دیر کے لئے بھول جانے سے بدل دے۔‘‘ (بہج? الاسرار، ذکر فصول من کلامہ مرصعابشی من عجائب، ص 64) 
بیداری میں زیارت نبیﷺ:ایک دن حضرت غوث پاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بیان فرما رہے تھے اور شیخ علی بن ہیتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کو نیند آگئی حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اہل مجلس سے فرمایا خاموش رہو اور آپ منبر سے نیچے اتر آئے اور شیخ علی بن ہیتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے سامنے باادب کھڑے ہوگئے اور ان کی طرف دیکھتے رہے۔ 
جب شیخ علی بن ہیتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ خواب سے بیدار ہوئے تو حضرت غوث پاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ان سے فرمایا کہ ‘‘آپ نے خواب میں تاجدار مدینہ، راحت قلب و سینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے ؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ‘‘جی ہاں۔‘‘ آپ نے فرمایا: ‘‘میں اسی لئے باادب کھڑا ہو گیا تھا پھر آپ نے پوچھا کہ ‘‘نبی پاک، صاحب لالوک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو کیا نصیحت فرمائی ؟‘‘ تو کہا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ‘‘آپ کی خدمت اقدس میں حاضری کو لازم کر لو۔‘‘ بعد ازیں لوگوں نے شیخ علی بن ہیتی رحم? اللہ تعالٰی علیہ سے دریافت کیا کہ ‘‘حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے اس فرمان کا کیا مطلب تھا کہ ‘‘میں اسی لئے باادب کھڑا ہو گیا تھا۔‘‘ تو شیخ علی بن ہیتی علیہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ‘‘میں جو کچھ خواب میں دیکھ رہا تھا آپ اس کو بیداری میں دیکھ رہے تھے۔‘‘ ( بہجۃ الاسرار ، ص 58 ) 
میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے:حافظ ابوالعز عبدالمغیث بن ابو حرب البغدادی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ بغداد میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی رباط حلبہ میں حاضر تھے اس وقت ان کی مجلس میں عراق کے اکثر مشائخ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم حاضر تھے۔ اور آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ ان سب حضرات کے سامنے وعظ فرما رہے تھے کہ اسی وقت آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا ‘‘قدمی ھذہ علی رقبہ کل ولی اللہ‘‘ یعنی میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرت سیدنا شیخ علی بن الہیتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اٹھے اور منبر شریف کے پاس جاکر آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا قدم مبارک اپنی گردن پر رکھ لیا۔ بعد ازیں (یعنی ان کے بعد) تمام حاضرین نے آگے بڑھ کر اپنی گردنیں جھکا دیں۔ (بہجۃ الاسرار،ص21) 
خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ:جس وقت حضور سیدنا غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے بغداد مقدس میں ارشاد فرمایا: ‘‘قدمی ھذہ علی رقبہ کل ولی اللہ یعنی میرا یہ قدم اللہ عزوجل کے ہر ولی کی گردن پر ہے۔‘‘ تو اس وقت خواجہ غریب نواز سیدنا معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنی جوانی کے دنوں میں ملک خراسان کے دامن کوہ میں عبادت کرتے تھے وہاں بغداد شریف میں ارشاد ہوتا ہے اور یہاں غریب نواز رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنا سر جھکایا اور اتنا جھکایا کہ سر مبارک زمینتک پہنچا اور فرمایا:’’بلق دماک علی راسی وعینی بلکہ آپ کے دونوں قدم میرے سر پر ہیں اور میری آنکھوں پر ہیں۔‘‘ ( سیرت غوث الثقلین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ، ص 89 ) معلوم ہوا کہ حضور غریب نواز قدس سرہ العالی سلطان الہند ہوئے اور یہاں تمام اولیائے عہدوما بعد آپ کے محکوم اور حضور غوث پاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ان پر سلطان کی طرح حاکم ٹھہرے۔‘‘ 
شیخ حیات بن قیس الحرانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ:آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے 3 رمضان المبارک 579ء میں جامع مسجد میں ارشاد فرمایا کہ ‘‘جب حضور پرنور غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ کا اعلان فرمایا تو اللہ عزوجل نے تمام اولیاء اللہ کے دلوں کو آپ کے ارشاد کی تعمیل پر گردنیں جھکانے کی برکت سے منور فرمادیا اور ان کے علوم اور حال و احوال میں اسی برکت سے زیادتی اور ترقی عطا فرمائی۔‘‘ (بہجۃ الاسرار، ص30)
اللہ عزوجل کے ولی کا مقام:شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی کا ارشاد مبارک ہے: ‘‘جب بندہ مخلوق، خواہشات، نفس، ارادہ اور دنیا و آخرت کی آرزوؤں سے فنا ہو جاتا ہے تو اللہ عزوجل کے سوا اس کا کوئی مقصود نہیں ہوتا اور یہ تمام چیز اس کے دل سے نکل جاتی ہیں تو وہ اللہ عزوجل تک پہنچ جاتا ہے، اللہ عزوجل اسے محبوب و مقبول بنا لیتا ہے اس سے محبت کرتا ہے اور مخلوق کے دل میں اس کی محبت پیدا کر دیتا ہے۔ پھر بندہ ایسے مقام پر فائز ہو جاتا ہے کہ وہ صرف اللہ عزوجل اور اس کے قرب کو محبوب رکھتا ہے اس وقت اللہ تعالٰی کا خصوصی فضل اس پر سایہ فگن ہو جاتا ہے۔ اور اس کو اللہ عزوجل نعمتیں عطا فرماتا ہے اور اللہ عزوجل اس پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اور اس سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ رحمت الٰہی عزوجل کے یہ دروازے کبھی اس پر بند نہیں ہوں گے اس وقت وہ اللہ عزوجل کا ہو کر رہ جاتا ہے، اس کے ارادہ سے ارادہ کرتا ہے اور اس کے تدبر سے تدبر کرتا ہے، اس کی چاہت سے چاہتا ہے، اس کی رضا سے راضی ہوتا ہے، اور صرف اللہ عزوجل کے حکم کی پابندی کرتا ہے۔ (فتوح الغیب مع وقلائد الجواہر، المقالہ السادستہ و الخمسون، ص 100)
طریقت کے راستے پر چلنے کا نسخہ: حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ‘‘اگر انسان اپنی طبعی عادات کو چھوڑ کر شریعت مطہرہ کی طرف رجوع کرے تو حقیقت میں یہی اطاعت الٰہی عزوجل ہے، اس سے طریقت کا راستہ آسان ہوتا ہے۔
توکل اور اخلاص:حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی حضور غوث پاک سے دریافت کیا گیا کہ ‘‘توکل کیا ہے ؟‘‘ تو آپنے فرمایا: ‘‘توکل کی حقیقت اخلاص کی حقیقت کی طرح ہے اور اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی عمل، عوض یعنی بدلہ حاصل کرنے کے لئے نہ کرے اور ایسا ہی توکل ہے کہ اپنی ہمت کو جمع کرکے سکون سے اپنے رب عزوجل کی طرف نکل جائے۔‘‘ (المرجع السابق، ص 233)
آپ کا وصال مبارک:حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے 9 ربیع الاخر 561ہجری میں انتقال فرمایا، وصال کے وقت آپ کی عمر شریف تقریباً 90 نوے سال تھی۔‘‘ (الزیل علی طبقات الحنابلۃ، ج3، ص 251)